Single Blog Title

This is a single blog caption

علم ایک دولت

علم ایک دولت

(انجنیئر اصغر علی)  

علم ایک ایسی دولت ہے جو دنیا کی تمام تر دولتوں سے افضل ہے جس کے زوال اور چوری ہو نے کا سوال ہی نہیں ہوتا ۔دنیا کی تمام ترترقی علم پر منخصر ہے ۔کتاب ہی علم کی دولت تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے ۔جس قوم میں قلم و کتاب کی حکومت ہو وہ دوسری اقوام پر اسی طرح حکومت کرتی ہے جس طرح انسان جانوروں پر حکومت کرتا ہے اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک میں تحفیل علم و مطالعہ کتب اور تصنیف و کتابت کا ذوق شوق جنوں کی حد تک موجود تھا۔ اسی قلم و کتاب سے دوستی اور علم کی بدولت انہوں نے صدیوں دنیا پر حکمرانی کی جب مسلمان عروج پر تھے۔ عراق اہل اسلام کا مرکز تھا تب بغداد میں کتابوں کا ڈھیر تھا دنیا کا پہلا عظیم کتب خانہ جس کا نام بیت الحکمت تھا بغداد میں قائم ہوا ۔یہاں اس وقت دس لاکھ سے زائد کتابیں تھیں اور اس کتب خانے کے دو شعبے تھے ایک کتابوں کی فراہمی اور دوسر ا تصنیف و تالیف مسلمان حکمران تجارتی قافلوں سے منہ مانگی قیمت دیتے تھے کتابیں خریدتے تھے اور ان کتب کا ترجمہ کرواتے اور ان کا مطالعہ کرتے تھے کتابیں بغداد لاتے ان کا ترجمہ کرواتے اور ان کا مطالعہ کرتے ۔پھر اسی طرح قاہرہ میں عظیم کتب خانہ قائم ہوا جس میں سولہ لاکھ کتب موجود تھیں قرطبہ کے کتب خانے میں چار لاکھ کتابیں جمع تھیں وہاں کے حکمران الحکم کو کتابوں سے اس قدر عشقط تھا کہ اس نے شاہی محل میں دس ہزار خطاط ملازمت پر رکھے ہوئے تھے ۔ان کا کام یہی ہوتا تھا کہ شاہی کتب خانے کی کتب نقل کرتے تھے یہ کتب نہ صرف قرطبہ کے سرکاری یا غیر سرکاری کتبن خانوں کو مہیا کی جاتیں ۔بلکہ اندلس کے باقی شہروں کو بھی بھیجی جاتی تھیں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کی بات کی جائے تو جلال الدین خلجی ،خواجہ نظام الدین اولیا ء نے عظیم کتب خانے قائم کیے ۔ ہمایوں نے دہلی کے پرانے قلعے میں عظیم کتب خانے کی بنیاد رکھی ۔ بابر شا ہ جہاں ، اورنگزیب عالم گیر ، ٹیپو سلطان اور دیگر مسلم حکمرانوں کے ذاتی کتب خانوں میں ہزاروں کتب موجود تھیں ۔مسلم حکمران کہیں بھی جاتے تو ان کتب خانوں کی نادر کتابیں ان کے ساتھ ہوتیں ۔ مسلم حکمرانوں نے نہ صرف ذاتی کتب خانے قائم کیے بلکہ اسلامی سلطنت کے کونے کونے تک کتب خانوں کے جال بچھا دیے اور عام و خاص کو ان کتب خانو ں سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا ۔نہ صرف عوامی کتب خانے قائم ہوئے بلکہ مدرسوں کے ساتھ بھی کتب خانے قائم کئے گئے انہی کتب خانوں کے سائے میں ان مدرسوں اور دانش گاہوں سے علم و آگہی کے چراغ روشن ہوئے جنہوں نے دنیا پر اپنا سکہ جمایا ۔مگر یہ اپنے آباو اجداد کے بتائے ہوئے اصولوں کو بھول گئے اور حیرت ہے کہ

حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے 
جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا 

آج اگردنیا کی بہترین جامعات کی فہرست پر نظر دوذائی جائے تو مسلم ممالک کی جامعات کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔ایک وقت تھا کہ عراق علم کا مرکز تھا مغربی ممالک سے لوگ تعلیم حاصل کرنے عراق آتے تھے ۔آج وہی عراق ہے ،وہی بغداد کے کوچہ وبازار ہیں کہ مسلمانوں کی نااہلی اور فرقہ وبدواریت کی بدولت بم دھماکوں سے لرز رہے ہیں۔اگر پاکستان کے طول و عرض پر نظر دوڑائی جائے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ڈھائی کروڑ بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔٦٦ سال گزرنے کے باوجود یہاں تعلیم سے طبقاتی نظام کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا۔کسی بھی ملک کی ترقی کی رفتار کا اندازہ اُس ملک کی شرح خواندگی اور اُس ملک میں موجود کتب خانوں اور اُن کتب خانوں میں موجود کتب کے ذخیرے اور عوام کی اُس میں دلچسپی سے لگایا جاسکتا ہے۔اگر قائد کے پاکستان کی بات کریں تو معلوم ہوتاہے کہ 20 کروڑ کی آبادی کے لئے 1100کے لگ بھگ کتب خانے موجود ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں موجود کتب خانوں میں لاکھ سے زیادہ کتب موجود نہیں ہیں۔ان کتب خانوں میں عوامی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ یہاں کا عملہ دن بھر بیٹھ کر مکھیاں مارتا رہتا ہے۔ یہاں موجود کتب پر منوں گرد پڑی ہوتی ہے۔سوائے ایکا دوکا لوگوں کے کوئی یہاں آنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔یہاں تک کہ اسلام آباد میں موجود پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری ”نیشنل لائبریری آف پاکستان ” کا رُخ بھی لوگ مجبوری کے عالم میں کرتے ہیں یعنی وہ نوجوان جو رسیرچ یا مقابلے کے امتحانات میں حصہ لیتے ہیں مجبوراََ یہاں کا رُخ کررتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میری ملاقات پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن کے صدر عظیم خان صاحب سے ہوئی اور میں نے اُن سے یہی جاننے کی کوشش کی تو جوعداد و شمار اُنہوں نے میرے سامنے رکھے وہ نہ صرف حیران کُن ہیں بلکہ افسوس ناک بھی۔پاکستان کے ترقی یافتہ شہر ،ماڈل سٹی کی اگر بات کی جائے تو اسلام آباد میں ایف جی جونئیر ماڈل سکولز (جن کو بعد میں اسلام آباد ماڈل سکولز میں تبدیل کر دیا گیا تھا )کی کُل تعداد218 (دوسو آٹھارہ) ہے،اور ان218سکولز میں سے ایک میں بھی لائبریری نہیں ہے۔وہ عمر جس میں بچہ بہت زیادہ جاننا چاہتا ہے،وہ عمر جس میں کوئی بھی اچھی عادت اپنا لی جائے تو وہ زندگی بھر ساتھ دیتی ہے۔وہ عمر جس میں بچوں کو کہانیاں سننے اور پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے اُن کو کہانیوں کی کتب کیا کتب خانے ہی دستیاب نہیں۔وہ خاک کتب بینی کا شوق رکھیں گے ،خاک عادت بنائیں گے جب اُنہیں لائبریری ہی دستاب نہیں۔اب تو بچے ویڈیو گیمز کھیل کر بڑے ہوتے ہیں۔اور مائوں کو بھی کہانیاں یاد نہیں۔

سوگئے بچے بھی ٹی وی دیکھ کر
یاد ماں کو ایک کہانی بھی نہیں

 

ایف جی ماڈل اسکولز( جن کو بھی بعد میں اسلام آباد ماڈل اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا تھا) کی کل تعداد 58(آٹھاون ) ہے۔اوران آٹھاون اداروں میں سے بھی ایک میں بھی لائبریری قائم نہیں گئی۔ بلکہ ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔اسلام آباد میں ایف جی سیکنڈری اسکولز ( جن کو بھی بعد میں اسلام آباد ماڈل اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا تھا) کی کُل تعداد 102ہے جن میں سے صرف 29 میں لائبریری ہے اور 73میں کوئی لائبریری نہیں ۔حیرانگی کی حد تو یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ سے الحاق کے لئے لائبریری اور Qualified librarian (جس نے لائبریری سائنسز میں ڈگری حاصل کی ہو)کا ہونا ضروری ہے ۔لیکن ان 73اداروں میں کوئی لائبریری نہیں اور یہ فیڈرل بورڈ سے الحاق شدہ ہیں۔ایف جی ہائر سیکنڈری اسکولز ( جن کو بھی بعد میں اسلام آباد ماڈل اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا تھا) کی کل تعداد 20ہے ان میں لائبریرینز کی 12سینکشن پوسٹیںموجود ہیں جن میں سے 6 ایسی ہیں جن پر Qualified librarianموجو د نہیں یعنی انہیں کوئی کلرک چلا رہا ہے۔ایف جی کالجز (جن کو بعد میں اسلام آباد ماڈل کالجز میں تبدیل کردیا گیا تھا)کی کل تعداد 10ے ان میں لائبریرینز کی9 سینکشن پوسٹیںموجود ہیں جن میں سے 7 پر Qualified librarianموجو د ہیںجبکہ 2 خالی ہیں۔اسلام آباد ماڈل کالجز (جو شروع سے ہی ماڈل کالجز کے طور پر کام کررہے ہیں )کی کل تعداد 20ہے لائبریرینز کی7 1سینکشن پوسٹیںہیں جن میں سے8 پر Qualified librarian کام کر رہے ہیں اور 9 خالی ہیں۔تین ماڈل کالجر ایسے بھی ہیں جن میں سرے سے لائبریری موجود ہی نہیںہے ، نہ لائبریری نہ لائبریرن پھر بھی فیڈرل بورڈ سے الحاق شُدہ ہیں۔یہ ہمارے ترقی یافتہ دارلحکومت اسلام آباد کا احوال ہے۔اسلام آباد میں کل418 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے صرف 67 میں لائبریری موجود ہے۔جبکہ صرف 53 اداروں میں لائبریریاں چالو حالت میں موجود ہے۔خود اندازہ لگائین اگرتر قی یافتہ دارلحکومت کا یہ حال ہے تو باقی علاقوں میں کیا صورتحال ہوگی۔

ایف جی سکولز اور ایف جی کالجز میں تو لائبریری فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان اداروںمیں لائبریریاں اللہ کے آسرے پر چل رہی ہیںتو غلط نہ ہوگا۔ماڈل کالجز میں بھی لائبری فنڈز گزارہ لاحق ہیں،اور ان میں یکسانیت نہیں ہے۔اگر کسی لائبریری کے لئے ایک لاکھ فنڈ مختص ہے تو اُ ن میں سے80 ہزار روپے اخبارات اور میگزین کے بل میں صرف ہوجاتے ہیں۔اس حوالے سے میں مختلف کالجز میں گیا اور اپنے جاننے والوں سے تصدیق کروائی تو جان کر حیران رہ گیاکہ پیشتر تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن کے سربراہان اپنے ذاتی مقاصد کے لئے لائبریری فنڈ کا استعمال کرتے ہیں اور یہ جرم سرِعام کرتے ہیں۔انہیں کو ئی ڈر نہ ہے، نہ خوف ،اور نہ ہی اُنہیں لائبریریوں کی حالت زار پر رحم آتا ہے۔زیادہ تر پرنسپل حضرات لائبریری فنڈ سے اخبارات اور رسالہ جات استعمال کرتے ہیں،جبکہ اُن کے اخبارات اور رسالہ جات کیلئے علیحدہ سے فنڈ مختص ہوتا ہے۔کچھ پرنسپل حضرات صرف اخبارات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مختلف ڈائجسٹ،مہک ،اخبارِجہاں وغیرہ لائبریری فنڈ سے لے جاتے ہیں ۔بل لائبریر ی ادا کرتی ہے۔یوں زبوں حال لائبریریوں کو افسر شاہی کے اخراجات بھی اپنے اکائونٹ سے ادا کرنا پڑتے ہیں۔یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ایف جی کالجز میںسے تو کچھ کے بارے میںانکشاف ہوا ہے کہ ان اداروں میں لائبریرین سے ٹیچنگ کا کام بھی لیا جاتا ہے۔یعنی لائبریری کو تالہ لگا کر لائبریرین کمیسٹری ،بایالوجی ،انگریزی یا اردو کا لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔پیشتر ایف جی کالجز میں سٹاف کی کمی کو یوں پورا کیا جاتا ہے۔بعض اداروں کے بارے میں یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ وہاں اسسٹنٹ لائبریرینسے کنڈیکٹری اور چوکیداری کا کام لیا جاتا ہے۔ایک صاحب نے تو اس بات کا اعتراف کیا اور کہا ”کیا کریں ہمیں مجبوراََ یہ کا م کرنا پڑتا ہے ،جو انکار کی جرات کرے اُسے تنگ کیا جاتا ہے۔کچھ ماہ قبل تک طلباء و طالبات سے لائبریری فنڈ لیا جاتا تھا اور شاید ابھی بھی لیا جاتا ہے۔لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ اس فنڈ کی بھی زیادہ تر رقم نئے آنے والے سیکٹری ایجوکیشن ،ڈارائیکٹر فیڈرل کالجز ،پرنسپل حضرات اور دیگر کی خوشامد پر خرچ کر دی جاتی ہے۔اگر ہم سکیم آف سٹڈ یز کا جائزہ لین جسے منسٹری آف ایجوکیشن گورنمنٹ آف پاکستان نے منظور کیا ہے۔اس سکیم آف سٹڈیز کے تحت ہر سکول ،کالج کی ہر کلاس کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر جماعت کے ہفتے کے دو پریڈ لائبریری کے ہونگے ۔اور اس پالیسی کے تحت ہر ادارے کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر جماعت کے ہفتے کے دو پریڈ لائبریری کے لگانے۔جس کے دوران ایک لائبریرین،ایک اسسٹنٹ لائبریرین اور ایک ایٹنڈڈ کی موجودگی میں طلباء و طالبات کو باقائدگی میں کتب بینی کے حوالے سے تربیت کی جائے ۔مطالعہ کتب کے حوالے سے ان کے مسائل کو پرکھا جائے۔لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ 88 فی صد اداروں کے پاس تو لائبریری ہی نہیں۔وہ کیسے لائبریری پریڈ لگائیں گے؟اور جن گنے چنے اداروں میں لائبریری موجود ہے اُن میں بھی لائبریر ی پریڈ لگانے کی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی ۔بلکہ پیشتر اداروں کے نوٹس بورڈ پر نصب ٹائم ٹیبل میں لائبریری پریڈ کا ذکر ہی نہیں۔طلباء و طالبات شیشے کے شیلف میں بند کتب کا دور سے نظارہ کرتے رہ جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک کا م کے سلسلے میں مجھے اپنے کا لج آئی ایم سی بی ایف ایٹ فور جانے کا اتفاق ہوا ۔وہاں لائبریری کے باہر Digital library کا بورڈ نصب تھا۔اند ر گیا تو سب کام مینول ہورہا تھا ۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایف ایٹ فور کالج میں ایکس پرنسپل وحید الدین کے دور میں ڈارائیکٹر ماڈل کالجز مجاہد ضمیر اور ایکس ڈی جی و پرنسپل شائستہ پیرزادہ نے اس Digital library کا افتتاح کیا۔اور ان سربرہانِ ادارہ جات کے علم ِوسیع کے مطاتق لائبریری میں تین چار کمپیوٹر رکھ کر اُسے انٹر نیٹ سے Connectکرنے کو Digital library کہتے ہیں ۔سلام ہو ایسے ڈی جی ،ایسے ڈارائیکٹر اور ایسے پرنسپل پر اور اُن کے علم ِ وسیع پر۔سلام ہو ایسے میڈیا پر جس نے یہ ایونٹ کیور کیا اور اگلے دن کے اخبارات میں Digital library کے افتتاح کی خبر اور تصاویر بڑے پُر وقار انداز میں شائع ہوئیں۔ترقی کی منزلیں چھوتے ماڈل سٹی اسلام آباد کا یہ حال ہے کہ یہاں کے تعلیمی اداروں میں سے صرف ایک ادارے ”آئی سی جی ” کے پاسDigital library کی سہولت موجود ہے۔

لائبریری پروفیشن سے وابسطہ لوگ بھی مایوس ہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں اُن کی خدمات کا صلہ نہیں مل رہا ۔ٹیچرز ،ٹیکنیشنز ،کلریکل اسٹاف سب کو اپ گریڈ کر دیا ہے ما سوائے لائبریری پروفیشن سے وابسطہ لوگوں کے ۔حالانکہ ٹیچرز اور کلریکل اسٹاف کی ترقی کے رولز پہلے سے موجود ہیںپھر بھی اُن کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے ۔تاہم لائبریر ی پروفیشن سے وابسطہ لوگوں کے لئے کوئی ترقی نہیں ،کوئی اپ گریڈیشن نہیں ،کوئی ٹائم اسکیل نہیں ،جس اسکیل میں آتے ہیں اُسی میں ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں۔کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ دوسرے پروفیشن سے وابسطہ لوگ اپنی سروس کے دوران 19 ،20،21 گریڈ تک پہنچ جاتے ہیں۔لیکن لائبریری پروفیشن سے وابسطہ لوگ جس اسکیل میں آتے ہیں اُسی میں چلے جاتے ہیں۔ایسی صوری میں کون اس پروفیشن سے پیار کرے گا؟کون اس پروفیشن میں دلچسپی لے گا؟جب لوگ مجبوری کے عالم میں اس پروفیشن کو جائن کریں گے تو خاطر خواہ نتائج کیسے حاصل ہوں گے؟سابق دور حکومت میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی تھی کہ اس پروفیشن سے وابسطہ لوگوں کے لئے بھی ترقی کی رائیں کھولی جائیں۔لیکن وہ سفارش بھی کام نہ آہ سکی ۔بلآخر تنگ آہ کر اس پروفیشن سے وابسطہ لوگوں نے عدالت کا دورازہ کھٹکایا ہے۔جانے وہاں کی دستک بھی اُن کے کچھ کام آتی ہے کہ بیکار جاتی ہے۔

پاکستان میں لائبریر یوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کے حوالے سے باقائدہ قانون سازی کی واحد کوشش سابق دور حکومتمیں ہوئی ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے سینٹرایس ایم ظفر کی زیرِنگرانی اس حوالے سے کافی مثبت سفارشات پر کام کیا ۔اس کمیٹی کے ممبران میںسلیم سیف اللہ ،پروفیسر ابراہیم ،عبدالخالق،سعیدہ اقبال،ریحانہ بلوچ اور دیگر نے بہت کا م کیا اس سلسلے میں پہلی بار سفارشات کو حتمی شکل بھی دی۔لیکن پھر گورنمنٹ تبدیل ہوگی۔اور پھر وہی ہوا یعنی رات گئی بات گئی۔ 

آج امریکہ کیوں بلا شرکتِ غیر دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے۔یورپی ممالک کیوں دن بدن ترقی کر رہے ہیں۔وجہ یہی ہے کہ وہاں پر قلم و کتاب کی حکمرانی ہے۔وہاں کی جامعات کا شمار دنیا کی بہتریں جامعات میں ہوتا ہے۔وہاں پر کتب خانوں کا جال بچھا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی لائبریری ”لائبریری آف کانگرس ” امریکہ میں موجود ہے۔وہ دنیا بھر سے نادرکتب منہ مانگی قیمت پر خریدتے ہیں اور اُسے لائبریر ی آف کانگرس کی زینت بناتے ہیں۔ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔اُن کی قدر کرتے ہیں۔جبکہ ہمارے ہاں کتب کی قدر ہی نہیںرہی ۔یہاں لوگ مطالعہ کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔اے کاش مسلمان اللہ اور اس کے رسول ۖ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے تو یوں رسوانہ ہوتے ۔مسلمان یوں در بدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے یو ں کشکول لے کر دنیا میں نہ گھومتے اور عالمی اداروں سے انصاف کی بھیگ نہ مانگ رہے ہوتے.

 

Leave a Reply