Single Blog Title

This is a single blog caption

شریکِ مطالعہ

نعیم الرحمن
فروغ ِ مطالعہ اور کتب بینی کے لیے اردو میں کئی اچھی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں نامور مصنف اور دانش ور محمد کاظم کی ’’کل کی بات‘‘ اور منفرد مزاح نگار محمد خالد اختر کے ’فنون‘ میں کتابی تبصروں کو آج نے ’’ریت پر لکیریں ‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ تبصرۂ کتب پر رفیع الزماں زبیری صاحب کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں لیکن ایمل مطبوعات نے معروف اہلِ علم کی مطالعاتی زندگی پر مبنی بہت ہی خوب صورت کتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ کے نام سے شائع کی۔ اس شاہکار کتاب کے مؤلف عرفان احمد ہیں اور اس کی تدوین عبدالرؤف نے کی ہے۔ بڑے سائز کے 294 صفحات کی کتاب کی قیمت 650 روپے انتہائی مناسب ہے جوایمل کے روایتی دیدہ زیب انداز میں شائع ہوئی ہے۔
پبلشر شاہد اعوان نے عرضِ ناشر ’’علمی سفرنامے‘‘ کے زیر عنوان تحریرکیا ہے کہ ’’آج ٹیکنالوجی کے دور میں کتاب پر بات کرنا بجائے خود ایک نیکی ہے، اور پھر یہ گفتگو کرنے والے علم و ادب کی دنیا کے روشن نام ہوں توگویا نور’‘ علی نور کا مضمون ہوجاتا ہے۔ مطبوعہ کتاب کے مستقبل کے بارے میں ماضیِ قریب میں پیدا ہونے والی تشویش تو خیر وقت نے غلط ثابت کردی۔ برقی کتاب کسی طورکاغذ کے نامیاتی احساس کا متبادل نہیں بن پائی۔ ہارڈ بک بہت سخت جان ثابت ہوئی۔ مطالعے کا عمل باصرہ اور لامسہ کے رومانی امتزاج کے بغیر علم کو شخصیت کا جزو نہیں بننے دیتا ۔ ’’میرا مطالعہ‘‘ کی پہلی جلد میں شامل یہ تحریریں کتاب شناسی اورکتب بینی کے ذوق کی آبیاری کے علاوہ ہمارے علمی سرمایے کی بازیافت کا کام بھی کریں گی۔ یہ مقالات دراصل اُن ادیبوں اور دانش وروں کے فکری و علمی سفرنامے ہیں جن کے ذریعے قاری چند صفحات میں کئی دہائیوںکے سفر کی روداد پڑھ سکتا ہے۔

میرا مطالعہ میں ملک کے 20 اہم مصنفین، ادباء اور دانش ورانِ کرام کی مطالعاتی زندگی کو پیش کیا گیا ہے جن میں بعض مرحومین بھی شامل ہیں۔ احمد جاوید، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر محمود غازی، ڈاکٹر انور سدید، زاہدہ حنا، ڈاکٹر طاہر مسعود، ڈاکٹر معین الدین عقیل، محمد سہیل عمر، ڈاکٹر مبارک علی، مولانا زاہد الراشدی، آصف فرخی، طارق جان، حکیم محمود احمد برکاتی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر صفدر محمود، اوریا مقبول جان، عبدالجبار شاکر، عبدالقدیر سلیم، عامر ہاشم خاکوانی اور ڈاکٹر زاہد منیرکے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ علم و ادب کے ان مشاہیرکے ساتھ کتابوں پرکیا کمال گفتگو ’میرا مطالعہ‘ میں شامل ہے جس سے قاری کو عمدہ کتابوں کے بارے میں علم ہوتا ہے اور انہیں حاصل کرکے پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔
ہر انٹرویو کے آغاز میں صاحبِ مصاحبہ کا مختصر تعارف ہم جیسے کم علموں کو اُن کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ معروف ادیب، دانش ور، فلسفی جناب احمد جاوید کے مطابق ’’ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھانے میں سب سے پہلی شخصیت میرے دادا کی تھی، جوالٰہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی پڑھاتے تھے اور نہایت غیر معمولی پڑھے لکھے آدمی تھے۔ ان کی اچھی خاصی لائبریری بھی تھی۔ دادا کے بعد میرے لیے سب سے مفید صحبت سلیم احمد کی رہی۔ سلیم احمد صاحب بہت بڑے ادیب، شاعر اور استاد تھے۔ ریڈیو پاکستان کے انتہائی اہم اور لائق لکھاریوں میں سے تھے‘ اُن کی صحبت کی وجہ سے میری زندگی یک سو ہوگئی۔ انہوں نے نہ صرف مطالعے کا شوق پیدا کیا بلکہ مطالعے کے راستے بھی دکھائے، پھر جوکہتے تھے اس کی نگرانی بھی کرتے تھے، یعنی پڑھا یا نہیں پڑھا۔‘‘ احمد جاوید صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ابوالکلام آزادکی تحریر میں معنی مغلوب ہوتے ہیں، اسلوب غالب ہوتا ہے اور ان کی تحریر مدلل نہیں تحکمانہ ہوتی ہے۔‘‘ احمد جاوید دھیمے لہجے میں اپنی گفتگو سے سامع کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سلیم احمد نے ان کے لیے ایک نصاب ترتیب دیا جس میںکلیاتِ میر، ول ڈیورانٹ کی اسٹوری آف فلاسفی اور تذکرۂ غوثیہ کے علاوہ ایلیٹ کے تمام مضامین اور کچھ طویل نظمیں اور محمد حسن عسکری کی تمام کتابیں شامل تھیں۔ احمد جاوید کا بنیادی رجحان اور پسندیدہ موضوع تو شاعری اور مذہب کا مطالعہ ہی رہا‘ اُن کی شخصیت اور فکر پر دینی لحاظ سے مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اثرات ہیں۔ انہوں نے مولانا مودودیؒ کی کتب میں ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ کو اہم ترین قرار دیا۔ ’’تفہیمات‘‘ اور’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘، مولانا تھانوی کی ’’التکشف عن مہمات التصوف‘‘ ، ’’تعلیم الدین‘‘ اور ’’مواعظ‘‘ کے مطالعے پر زور دیا ہے۔

دانش ور، ماہرِ تعلیم اور صاحبِ طرز نثر اور خاکہ نگار ڈاکٹر محمد اسلم فرخی کا وطن فتح گڑھ ضلع فرخ آباد تھا، اسی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ فرخی لگایا۔ تعلیم سے فراغت کے ساتھ ہی وہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ کراچی کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹی میں وہ اردو کے استاد رہے۔ زبان و ادب کے استاد کی حیثیت سے ان کا بڑا مقام ہے۔ ان کی اصل پہچان خاکہ نگار کے طور پر ہوئی۔ حضرت نظام الدین اولیا کے بارے میں انہوں نے چھ کتب تحریر کیں۔ دیگر تالیفات میں محمد حسین آزاد، قتیل و غالب، قصص الہند، بابا فریدکے علاوہ خاکوں پر مبنی آنگن میںستارے، سات آسمان، موسمِ بہارجیسے لوگ سمیت کئی کتابیں شامل ہیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی نے بتایا کہ ان کے دادا اور نانا دونوں کا خاندانی کام کتابوں کی اشاعت تھا اور دونوں کے پریس تھے۔ نانا نے بہت سی کتابیں شائع کیں۔ داغ دہلوی کے وہ تمام مجموعے جو رام پور میں مرتب ہوئے، اُن کے حقوق میرے نانا کے پاس تھے۔ دادا کی شائع کردہ ’’تاریخ فرخ آباد‘‘ بہت مشہور ہوئی۔ اسلم فرخی کے مطابق منٹو، عصمت چغتائی اور خدیجہ مستور کی نثر اختصار، اجمال، جامعیت اور استعجاب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ بڑی کاٹ دار، بڑی چبھنے والی نثر انہوں نے لکھی۔ ڈپٹی نذیر احمد نے جیسی گٹھی ہوئی نثر لکھی وہ اردو کا کوئی انشا پرداز نہیں لکھ سکا۔ زبان پر، چہرہ نگاری پر، انسان کے کردارکو بیان کرنے پر اور تیز حسِ مزاح کے ساتھ وہ لاجواب اسلوب ِ تحریر اور انداز نگارش کے حامل تھے۔ طنز و مزاح میں مشتاق احمد یوسفی کی نثر نہایت اعلیٰ قسم کی نثر ہے اور اسلوب کے لحاظ سے یوسفی صاحب کا اردو نثر میں بلند مقام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اردو ادب کا دامن کبھی اچھے نثر نگاروں سے خالی نہیں رہا۔ شاہد احمد دہلوی سے میں نے نثر لکھنا سیکھی، ان کی شخصیت کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے۔ انتظار حسین ہمارے عہد کے بڑے افسانہ نگار ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی نے فسادات پر بعض بہت اچھے افسانے لکھے۔ احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، خالدہ حسین بہت اچھے اور اعلیٰ درجے کے افسانہ نگار ہیں۔ جہاں تک ناولوں کا تعلق ہے، بیسوی صدی کا سب سے بڑا ناول قرۃ العین کا ’’آگ کا دریا‘‘ ہے۔ خدیجہ مستور نے خوب صورت اور مکمل بھرپور ناول ’’آنگن‘‘ تحریر کیا۔ عصمت چغتائی کا ’’ٹیڑھی لکیر‘‘، عبداللہ حسین کا ’’اداس نسلیں‘‘ اور ممتاز مفتی کا ’’علی پورکا ایلی‘‘ بھی بہترین ناول ہیں۔ بانو قدسیہ نے’’راجا گدھ‘‘ اورشمس الرحمن فاروقی نے ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ بہت زبردست ناول تحریر کیے ہیں۔ فاروقی صاحب ناول، افسانے اور تنقید کا بہت بڑا نام ہے۔ وہ عہد ساز، رجحان ساز اور ہمہ جہت ادیب ہیں۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتب میں مولانا شبلی نعمانی کی کتاب کا اعلیٰ مقام ہے۔

نامور مذہبی اسکالر اور اسلامی قوانین کے ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی نے حفظ اور مدرسے کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ اسلام آباد سے گریجویشن اور ماسٹرز کیا۔ سنوسی تحریک پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر، وفاقی وزیر مذہبی امور، نیشنل سیکیورٹی کونسل پاکستان کے رکن اور شریعہ اپیلٹ بورڈ سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔ ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون اور فقہ پر گہری نظر رکھنے والے اسکالرز میں شامل تھے، جو عصرِ حاضر میں درپیش جدید مسائل اور چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
ڈاکٹر غازی کی ملاقات مصر کے نابینا شاعر شیخ سعدی علی صالان سے ہوئی، جو ابتدائی گفتگو میں ان کی عربی اور فارسی دانی سے بہت متاثر ہوئے۔ شیخ صاحب کو حکومتِ پاکستان نے علامہ اقبال کے کلام کے منظوم عربی ترجمہ کے لیے بلایا تھا۔ شیخ صاحب کی دعوت پر وہ اسکول سے مستعفی ہوکر ان کے ساتھ کام کرنے لگے۔ اس طرح کلام اقبال نئی ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ ہر مشق اور شعر اور خصوصاً اقبال کی فارسی مثنوی کا مکمل عربی ترجمہ کیا، جس سے دونوں زبانوں پر دسترس میں اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر محمود غازی کا کہنا ہے کہ پورے چودہ سو برس میں مجدد الف ثانیؒ سے بہتر، جامع اور ٹھوس تحریریں کسی مسلمان صوفی نے نہیں لکھیں۔ مولانا مودودیؒ کی’’خلافت و ملوکیت‘‘، ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ اور’’تجدید واحیائے دین‘‘ سے زیادہ تر لوگ متاثر ہیں۔ لیکن مجھے مولانا کی یہ کتب ان کے معیار سے بہت کم تر محسوس ہوئیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جو شخص زمانۂ حال کے تمام احکام قرآنی کی ربوبیت ثابت کرے گا وہ اسلام کا سب سے بڑا مفسر ہوگا۔ یہ کام جن لوگوں نے کیا ہے ان میں بیسوی صدی کا سب سے اہم نام مصطفی الزرقا کا ہے۔
اردو ادب کے معروف نقاد، ادیب، شاعر اور کالم نگار انور سدید بے پناہ مطالعہ کرنے والے شخص تھے۔ دنیا بھر سے شائع ہونے والی کتب اور جرائد نہ صرف ان کے زیر مطالعہ رہتے تھے بلکہ وہ ان کتب وجرائد پر سیر حاصل تبصرے بھی کرتے تھے۔ پاکستان کے تقریباً ہر اچھے ادبی جریدے میں انورسدید کی تحریریں اور طویل خطوط شائع ہوتے تھے۔ اردوادب کے قارئین اب تک ادبی رسائل میں ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ انورسدید نے اپنے انٹرویو میں بہت اچھی بات کہی کہ ’’میں کتاب کو خیرِکثیرکی تقسیم کا وسیلہ سمجھتا ہوں اور اس خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ جانے کو معیوب جانتا ہوں۔‘‘ شاید اسی خیال کے تحت ڈاکٹر انور سدید اپنے مطالعے میں دیگر قارئین کو بھی شریک کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ’’مطالعہ کا شوق پرائمری اسکول کے استاد ماسٹر ہاشم الدین صاحب نے پیدا کیا۔ انہوں نے چوتھی جماعت میں غیر نصابی کتاب محمد حسین آزاد کی ’’قصص الہند‘‘ پڑھائی تھی۔ چھٹی جماعت میں یہی رہنمائی مولوی محمد بخش صاحب نے کی۔ پھر مولوی پیر بخش سے یہ معاونت ملی۔ انہوں نے مجھے کلاس لائبریری کا انچارج بنادیا، جس سے کتابیں پڑھنے کی عادت پختہ ہوگئی۔ ادبی نشوونما میں دو بڑے بھائیوں فیروزالدین انور اور معراج الدین کا بھی حصہ ہے۔ شاعری میں عروض کا ابتدائی سبق ماسٹر عبدالکریم نے دیا۔ عملی ادبی تربیت میں ڈاکٹر وزیر آغا کا بہت بڑا حصہ ہے۔ لکھنے کا آغاز بچوں کے رسالے ’’گل دستہ‘‘ سے کیا۔ پھر ’’بیسویں صدی‘‘ سے ہوتا ہوا ادبی رسالے ’’ہمایوں‘‘ تک پہنچ گیا۔ وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ جاری کیا تو مجھے تنقید پر لکھنے کا مشورہ دیا۔ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں، جن میں ’’اردوادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘‘، ’’اردو ادب میں سفرنامہ‘‘ اور ’’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

اس انٹرویو سے قاری کو مطالعے کے مقاصد اور اچھی کتابوں کے چناؤ میں مدد ملتی ہے۔ ’میرا مطالعہ‘ کا ایک اور اچھا انٹرویو معروف افسانہ اور کالم نگار خاتون زاہدہ حنا کا ہے۔ زاہدہ بہارکے شہر سہسرام میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی والد سے ہی حاصل کی۔ اُن کی پہلی کہانی ’ہم قلم‘ میں شائع ہوئی۔ اُنیس سال کی عمر میں وہ صحافت سے وابستہ ہوگئیں۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’قیدی سانس لیتا ہے‘‘، ’’راہ میں اجل ہے‘‘ اور’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کئی ٹی وی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ زاہدہ حنا بتاتی ہیں کہ ’’میں نے پہلی کہانی نو برس کی عمر میں لکھی، پہلی تحریر تیرہ برس کی عمر میں شائع ہوئی۔ سولہ برس سے میرے مضامین اور افسانے ملک کے اہم رسائل میں شائع ہونے لگے۔ میں نے کم عمری ہی سے مطالعہ شروع کردیا تھا۔ ’’مراۃ العروس‘‘ کا 1926ء کا چھپا ہوا نسخہ آج تک میرے پاس ہے۔ میں تنہا بچی تھی۔ والدکہیں آنے جانے نہیں دیتے تھے۔ کتابیں میرے لیے نجات کا پروانہ بن گئیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی تمام کتب، ڈپٹی نذیر احمد کے ناولز، عبدالحلیم شرر، علامہ راشدالخیری اور خواجہ حسن نظامی کے سیٹ، اور فیاض علی ایڈووکیٹ کے دونوں ناول ’’شمیم‘‘ اور ’’انور‘‘ اسی دور میں پڑھ ڈالے۔‘‘
زاہدہ حنا کے انٹرویو میں ایک جہانِ مطالعہ آباد ہے، جس سے بے شمار کتب اور رسائل اور دیگر کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پسندیدہ کتابوں اور مصنفین کی فہرست میں ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ تین کتابوں کا انتخاب کرنا پڑا تو ول دیوراں کی ’’اسٹوری آف سولائزیشن‘‘، ’’جاتک کہانیاں‘‘ اور ’’دیوان غالب‘‘ کا چناؤ کروں گی۔
ڈاکٹر طاہر مسعود شعبہ صحافت کے اہم ترین استاد، کالم نگار، افسانہ نگار اور خاکہ نگار ہیں۔ سقوطِ ڈھاکا کے بعد وہ کراچی آگئے۔ جامعہ ملیہ سے انٹر اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور ایم اے کیا۔ برصغیرکے نامور ادیبوں کے انٹرویوز پر مبنی ان کی کتاب ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ حال ہی میں اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی شائع ہوا ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 42 شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ ان کے خاکوں کے مجموعے ’’کوئے دلبراں‘‘ اور ’’اوراق ناخواندہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ کالم کی کتاب ’’دل سوز سے خالی ہے‘‘ اور کہانیوں کے دو مجموعے ’’تار حریر دو رنگ‘‘ اور’’گم شدہ ستارے‘‘ بھی چھپ چکے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر مسعودکے مطابق ان کے والدین بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں سکونت پذیر ہوئے۔ دادا ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ اسکول کے زمانے میں اچھے استاد کی تلاش رہی۔ جوکچھ پڑھا اپنے شوق سے پڑھا، اس میں اصل کردار اردو لائبریری کا ہے جو بنگلہ دیش بننے کے بعد تباہ کردی گئی۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کہتے ہیں کہ ادبی مطالعہ نہ ہو تو انسان کی شخصیت ادھورے پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ مطالعے سے آدمی باطنی طور پر بہت امیر ہوجاتا ہے۔ اس کے اندرکلچرل بالیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ شائستگی آتی ہے اور وہ بہتر انسان بنتا ہے۔‘‘
’میرا مطالعہ‘ کے دیگر انٹرویوز بھی بہت شان دار اور قابلِ مطالعہ ہیں۔ ہر انٹرویو سے قاری کو ادب اور ادبی صورتِ حال کے بارے میں بہت کچھ علم ہوتا ہے۔ اس کے مطالعے میں وسعت آتی ہے اور ذوقِ مطالعہ میں نکھار آتا ہے۔ اس شان دار کتاب کی اشاعت پر پبلشر شاہد اعوان بھرپور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تاہم ’میرا مطالعہ‘ بہت عرصے سے ناپید ہے۔ اس کی اشاعتِ نو کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ’میرا مطالعہ‘ کے اختتام پرکتاب کی جلد دوم اور سوم کی خوش خبری بھی سنائی گئی تھی اور اس کے لیے زیر غور ناموں میں کرامت اللہ غوری، سجاد میر، ڈاکٹر تحسین فراقی، سید قاسم محمود، شکیل عادل زادہ، ڈاکٹر خالد مسعود، جاوید احمد غامدی، مظہر محمود شیرانی، رضا علی عابدی جیسے مشاہیرکے نام شامل تھے۔ ’میرا مطالعہ‘ کی جلد دوم کی جلد اشاعت کی شاہد اعوان سے پُر زور درخواست ہے۔

Courtesy of jasarat.com

Leave a Reply