• Go to Home
In Urdu blogs

کتابوں کی حکومت

Share

کتابوں کی حکومت

فرانس کے انقلابی دانشور والٹیر نے کہا تھا ،’’تاریخ انسانی میں چند غیر مہذب وحشی قوموں کو چھوڑ کرکتابوں ہی نے لوگوں پر حکومت کی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جس قوم کی قیادت اپنے عوام کو کتابیں پڑھنا اور ان سے محبت کرنا سکھا دیتی ہیں ،وہ دوسروں سے آگے نکل جاتی ہے۔‘‘
مغرب کے فکری انقلاب میں دوسرے عوامل کے ساتھ کتاب دوستی کا فیصلہ کن حصہ رہا۔یورپ میں دو تحریکیں صرف کتابوں کو پروموٹ کرنے کے لئے چلائی گئیں ۔ایک فرانس ،دوسری انگلینڈ میں ۔برطانوی دانشوروں نے انیسویں صدی میں فیصلہ کیا کہ دنیا بھر کے علمی وادبی شاہکار اپنے ملک کے عام آدمی تک پہنچنے چاہییں ۔حکومتی سرپرستی میں سقراط،افلاطون اور ارسطو سے لے کر جان لاک تک کے مفکرین کی کتابیں ایک پیسے (پنس)کی قیمت میں شائع کی گئیں۔دوردراز کے علاقوں کے لئے موبائل کتب خانے بنائے گئے۔فلسفہ ،تاریخ اور عمرانیات جیسے موضوعات کے ساتھ دنیا کی اہم زبانوں کے ماسٹر پیس انگریزی میں ترجمہ کئے گئے ۔پھر ایک منظم حکمت عملی کے طور پر اخبارات ،رسائل اور مختلف محفلوں میں اعلیٰ معیار کے مذاکرے کرائے گئے ۔کتابوں پر بحث کرنا فیشن بن گیا۔بڑے بڑے لارڈز اور اراکین پارلیمنٹ ان مذاکروں میں مبتدی کے طور پر شریک ہوتے اور اہل دانش کی فکر افروز باتوں سے مستفید ہوتے ۔اخبارات کے گوسپ کالموں میں ان اعلیٰ شخصیات کا مذاق اڑایا جاتا ،جنہیں ادب سے شغف نہیں تھا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے آپ کو جاہل اور گنوار کہلانے سے بچنے کے لئے اشرافیہ نے بھی مطالعہ شروع کر دیا ۔یہ اسی روایت کا نتیجہ ہے کہ برطانیہ میں آج بھی کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد یورپ کے بہت سے ملکوں سے بہتر ہے ۔

امریکہ میں گو برطانیہ کی طرز پر مہم نہیں چلائی گئی ،مگر امریکی انٹیلی جنشیا نے ابتدا ہی میں دو بنیادی فیصلے کئے ۔ایک یہ کہامریکہ میں دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے ۔انہوں نے درست طور پراندازہ لگایا کہ اس طرح ان اداروں میں پڑھنے کے لئے دنیا بھر سے ذہین ترین طلبہ آئیں گے ۔اس وقت اگرچہ قدامت کے اعتبارسے انگلینڈ کی آکسفورڈاورکیمبرج یونیورسٹیوں کواولیت حاصل ہے ،مگر تعلیمی اعتبار سے دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں سٹنفورڈ ،ییل ،برکلے ،ہاورڈ ،ایم آئی ٹیوغیرہ امریکی ہیں ۔امریکی انٹیلی جنشیا کا دوسرا فیصلہ دنیا بھر کی زبانوں میں چھپنے والے اہم مواد کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اسے امریکیوں تک پہنچانا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی کسی چھوٹی کاؤنٹی کی لائبریری بھی بڑے بڑے ملکوں کی سنٹرل لائبریریوں سے کم نہیں ۔مشرق وسطیٰ امریکہ کے لئے پچھلے ستر اسی سال سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔امریکہ میں مڈل ایسٹ سے متعلقہ ایشوز پر غوروفکر کرنے کے لئے توبہت سے تھنک ٹینک موجود ہیں ہی ،عربی زبان میں چھپنے والے اخباری مضامین اور کتابوں کے ترجمے کے لئے کئی ادارے اور ویب سائٹس کام کر رہی ہیں ۔عرب دنیا میں شائع ہونے والی ایک ایک سطر تک صرف چند گھنٹوں کے اندرایک عام امریکی کی رسائی ممکن ہوجاتی ہے ۔
بیشتر مغربی اور بعض ایشیائی ممالک میں کتابوں کی اہمیت کے حوالے سے اسی طرز پر سوچا جا رہا ہے۔جاپانی حکومتیں اور انٹیلی جنشیا اس حوالے سے خاصی حساس رہی ہیں ۔میں نے چند سال پہلے ایک امریکی جرید ے میں جاپان میں کتابوں کی اہمیت کے حوالے سے ایک مضمون پڑھا ،جو ابھی تک یاد ہے ۔اس میں بتایا گیا کہ جاپان میں ایک بار حکومت نے ٹرینوں میں بک شیلف لگانے کا پروگرام بنایا گیا ۔شہروں میں چلنے والی لوکل ٹرینوں میں منتخب کتابیں نشستوں کے ساتھ لگے شیلفوں میں رکھ دی جاتیں ۔اس کا مقصد یہ تھا کہ دوران سفر مطالعہ کی عادت کا فروغ دیا جائے ۔کچھ عرصے کے بعد رپورٹ ملی کہ ان میں سے ایک تہائی کتابیں چوری ہوگئی ہیں۔اس پر جاپانی میڈیا اورپارلیمنٹ میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ٹی وی شوز میں اس پر بحث ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔وزیراعظم نے مختلف ماہرین پر مبنی ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا۔اس کمیشن نے چند ہفتوں کے غوروفکر کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی ۔حکومت نے فوری طور پر کئی سو ملین ڈالر کے بجٹ سے موبائل لائبریریز کا سلسلہ شروع کیا۔کتابوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے حکومت نے سبسڈی کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ ٹرینوں میں رکھی کتابوں کی تعداد دگنی کر دی گئی ۔جن کے ساتھ یہ نوٹ چسپاں تھا کہ کوئی بھی مسافر کتاب ساتھ لے کر جاسکتا ہے ۔اسے پڑھنے کے بعد کسی بھی ٹرین کے بک شیلف میں رکھ دے ۔
اسے بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ مہذب دنیا میں کتاب اورلائبریری کی اہمیت دیکھنے کے بعد پاکستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو شرمناک صورتحال نظر آتی ہے۔مغرب کے برعکس ہماری اشرافیہ اور حکومتوں نے منظم پلاننگ کے تحت نہ صرف یہاں کتاب پڑھنے کے ٹرینڈ کی حوصلہ شکنی کی ،بلکہ صاحب مطالعہ افراد کوناکامی اور شکست خوردگی کی جیتی جاگتی تصویر بنا دیا ۔ہمارے میڈیا پر پروفیسر یا سکالر کے کردار میں ایک اول جلول سا مضحک شخص دکھایا جاتا ہے۔ہمارے بعض اہل قلم بھی غیر محسوس انداز میں اس مہم کا شکار ہوکر یہ لکھ جاتے ہیں کہ عقل اور دولت کا ملاپ ممکن نہیں اور پڑھے لکھے فرد کا مقدر کسی جاہل سیٹھ کی نوکری ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے میڈیا پر بغیر معلومات حاصل کئے کتابیں مہنگی ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کتابوں کو جس قدر سستا کیا جائے ،اتنا کم ہے ۔تاہم آجکل کسی پڑھنے والے نوجوان کے لئے اچھی اور معیاری کتابوں تک رسائی زیادہ مشکل نہیں ۔پچھلے آٹھ دس برسوں میں اردو میں تراجم کا ایک سیلاب سا امنڈآیا ہے ۔اب ٹالسٹائی ،دوستؤفسکی ،چیخوف، ڈکنز،گارسیا مارکیز،اور دوسرے عالمی مشاہیر کا تقریباً تمام کام اردو میں منتقل ہو چکا ہے ۔اسی طرح والٹیر، روسو،کانٹ ،برٹرینڈ رسل ،بھگت کبیراور تلسی داس کے شہ پارے اوسط درجے کے بک سٹور سے بھی دستیاب ہیں۔
یہ بھی المیہ ہے کہ ہماری کسی بھی حکومت نے لائبریری کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا۔لاہور جیسا شہر جو علم وادب کا اہم مرکز رہا،اس کی ضلعی حکومت کے زیراہتمام ایک بھی اچھی لائبریری موجود نہیں ۔لاہورسے بہتر لائبریری تو قریبی شہروں شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں موجود ہیں ۔ لاہور کی واحد اچھی لائبریری ماڈل ٹاؤن میں واقع ہے ،یہ صوبائی محکمہ تعلیم کے تحت کام کر رہی ہے ۔قائداعظم لائبریری محض ریفرنس لائبریری ہے ،وہاں سے کوئی کتاب ایشو نہیں ہوسکتی ۔پنجاب پبلک اور دیال سنگھ لائبریری محکمہ اوقاف کے ماتحت ہے ،ان کا حال اوقاف کے دوسرے پراجیکٹس کی طرح ابتر ہے ۔شہر کی دوسری آبادیوں کے لئے ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ۔حیرت ہے کہ کسی بھی وزیراعلیٰ نے اس سمت توجہ نہیں کی ۔ایل ڈی اے جیسا ادارہ شہر میں بیسیوں سکیمیں بنا چکا ہے ،کسی ایک بھی سکیم میں کوئی پلاٹ لائبریری کے لئے نہیں رکھا گیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب یونین کونسل کی سطح پر لائبریریاں قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔انہیں چاہیے کہ پہلے ماڈل کے طور پر لاہور کے ہر ٹاؤن میں ایک ایک لائبریری بنائیں۔دوسرے شہروں میں بھی اس کی پیروی کی جائے ۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قوم میں شعور پیدا کئے بغیر کوئی دیرپا اورمفید تبدیلی لانی ممکن نہیں ۔شعور پیدا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہماری انٹیلی جنشیا اور اشرافیہ عوام میں اعلیٰ پائے کی کتابوں کو خریدنے ،پڑھنے اور اس پربحث مباحثے کا فیشن ڈالیں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Courtesy of yaghistan

Leave a Reply

Send Us Message

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>