• Go to Home
In Read Blogs

لندن: دنیا کی سب سے چھوٹی اور منفرد لائبریری کا قیام

Share

 لندن: دنیا کی سب سے چھوٹی اور منفرد لائبریری کا قیام

گھروں، کیفے اور عوامی مقامات پر نصب کتب خانےگڑیا کے ایک چھوٹےلکڑی کےگھر کے برابر ہوتے ہیں۔ ان کےاستعمال کےلیےصرف ایک اصول کارفرما ہے، یعنی’ایک کتاب لیجئے اور ایک کتاب واپس دیجئے، یا پھر، اپنی کوئی کتاب عطیہ کیجئے
ایک زمانہ میں لائبریری علم دوستی کے فروغ کا ذریعہ ہوا کرتی تھی اور یقیناً آج بھی ہوں گی۔ لیکن، ان دنوں علم کےاس گہوارے سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی تعداد نا ہونےکے برابر رہ گئی ہے۔

جیسے جیسے عام آدمی کے لیے، ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ، کمپیوٹر، ای بک، آئی پیڈ اور سمارٹ فون کو کتابوں کا متبادل سمجھا جانےلگا ہے۔ ایسےحالات میں، مشرقی لندن کےگلی کوچوں اورمحلوں میں لٹل فری لائبریری کا قیام اور منصوبےکی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کتب بینی کی روایت کو زندہ رکھنا شاید اتنا مشکل نا رہے۔

لٹل فری لائبریری کیا ہے، یہ کس طرح استعمال کی جاتی ہیں، ایسے بہت سے سوالات کا سادہ جواب یہ ہے کہ گھروں، کیفے اور عوامی مقامات پر نصب کتب خانے گڑیا کے ایک چھوٹے لکڑی کے گھر کے برابر ہوتے ہیں۔ ان کےاستعمال کے لیے صرف ایک اصول کارفرما ہے، یعنی’ایک کتاب لیجئے اور ایک کتاب واپس دیجئے یا پھر اپنی کوئی کتاب عطیہ کیجئے.

کتاب مستعار لینے کے لیےلائبریری کارڈ کی ضرورت نہیں ہے اور نا ہی کتاب زیادہ دن رکھنےپر فائن ادا کرنا پڑتا ہے۔ آپ چاہیں تو پسندیدہ کتاب بالکل مفت حاصل کرسکتےہیں۔ بس تبادلے کے طور پر آپ کو اپنی کوئی کتاب اس کتب خانے میں رکھنی ہوگی۔

برطانیہ میں لٹل فری لائبریری منصوبے کا آغاز لندن کےایک گنجان آباد بارووالتھم فاریسٹ سے کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو ایک غیرمنافع بخش تنظیم کی معاونت حاصل ہے۔فی الحال اس علاقےمیں کل 12 لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

ان کتاب گھروں کو لندن سے تعلق رکھنےوالے مشہور آرٹسٹوں نےڈیزائن کیا ہے۔

والتھم فاریسٹ میں لٹل فری لائبریری کی مقبولیت کے بعد مزید کتاب گھر آس پاس کے دیگر علاقوں لیٹن، لیٹن اسٹون، ہیکنی میں بھی قیام کئے جارہے ہیں۔

لندن میں لٹل فری لائبریری تعلیمی مہم کا آغاز ربیکا اور نک کی جانب سے کیا گیا ہے، جنھوں نےامریکہ کے دورے سےواپسی پر وہاں کی مختلف ریاستوں میں قائم ان چھوٹےکتاب گھروں کےخیال سے متاثر ہو کر برطانیہ میں بھی کتب بینی کےفروغ کی ضرورت کو محسوس کیا۔ اپنے منصوبےکی تفصیلات ٹوئٹر پر شئیر کرتے ہوئے، انھوں نے مقامی آرٹسٹوں کی معاونت طلب کی جس پر انھیں محض چند گھنٹوں میں ہی مقامی آرٹسٹوں کی جانب سے تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا گیا۔

نک اور ربیکا کا کہنا ہےکہ انھوں نے لٹل فری لائبریری کےقیام کےلیےایک کثیر الثقافتی علاقے والتھم فاریسٹ کا انتخاب کیا اور ان کتاب گھروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی محلے کے معزز افراد کے سپرد کی گئی ہے۔

روبی روڈ پر واقع ایک گھر کے استقبالیہ کے ساتھ نصب لٹل فری لائبریری لندن کی مشہور آرٹسٹ ایما اسکاٹ کی ڈیزائن کردہ ہےجسے ‘ولیم مورس برڈ ہاوس’ کا نام دیا گیا ہے۔ اہل محلہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کا یہ انوکھا انداز لندن کے شہریوں میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

قریبی فلاور شاپ پرکام کرنے والے نک نے’وی او اے’ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لائبریری کے قیام سے اس گلی میں بچوں کی آمد و رفت بڑھ گئی ہے۔ بچے کتابیں لینے یا اپنی کوئی کتاب رکھنےکی غرض سے سارا دن یہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ بلکہ آس پاس کے محلوں سے بھی کتابیں پڑھنےکےشوقین افراد ہماری گلی کا رخ کرنے لگے ہیں۔ اس طرح مختلف کمیونٹی کےلوگوں سےملنے جلنے کا موقع مل بھی رہا ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ایک تعلمی مہم کا حصہ ہے لیکن اسے سماجی رابطے کا ایک ذریعہ بھی کہا جاسکتا ہے۔

اسی گلی کی ایک اور رہائشی جین نے بتایا ہےکہ یہ بات ہماری گلی کے لیےباعث فخر ہے کہ برطانیہ کی پہلی لٹل فری لائبریری ہمارے محلے میں قائم کی گئی ہے۔

بقول جین میرےگھر کےشیلف پر سجی بہت سی کتابیں آج اس کتاب گھر کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ مجھے اس خیال سے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میری کتابوں سےدوسرے لوگ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔

جین کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے ناولز پڑھنےکے عشق میں گرفتار ہوچکی ہیں اور بہانے بہانے سے اس لائبریری کے چکر لگاتی ہیں، کیونکہ یہاں میرے جیسے بہت سے لوگ بہت عمدہ کتابیں عطیہ کر رہے ہیں بلکہ آپ اسےبک شئیرنگ پوائنٹ بھی کہہ سکتی ہیں۔

لٹل فری لائبریری کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی ریاست وسکونسن ہڈسن سے تعلق رکھنے والے ٹوڈ بول اس منصوبےکے روح رواں ہیں جنھوں نےاپنی والدہ کے گزرجانے کے بعد ان کی یاد میں گھرکےایک کمرے سے فری لائبریری کا قیام کیا۔ ٹوڈ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ ایک استانی تھیں جنھیں کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ بعد میں، ٹوڈ کے اس خیال کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور 2010 میں اسے باقاعدہ ایک تنظیم کا درجہ دیا گیا ہے، جس کے تحت وسکونسن میں یہ چھوٹا سا کتب خانہ علاقے کی گنجان شاہراہ پرنصب کیا گیا۔ لکڑی سے تیار شدہ کتب خانہ اسوقت ری سائیکل اشیا کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

2013 ءتک لگ بھگ 400 لٹل فری لائبریریاں امریکہ میں قائم کی جاچکی ہیں جبکہ رواں برس دنیا بھر میں قائم کی جانے والی لٹل فری لائبریریوں کی تعداد تقریباً 15,000 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 1000 سے زائد منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں۔

Courtesy of  urduvoa.com

Leave a Reply

Send Us Message

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>