• Go to Home
In Official Blog

اخبارات کے مطالعہ کا بڑھتا ہوا رجحان

اخبارات کے مطالعہ کا بڑھتا ہوا رجحان
فرخ ڈال

اخبار روز اول سے ہی مطالعہ کا ایک مقبول ترین ذریعہ رہا ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں اخبارات پڑھنے والوں کی تعداد نہ صرف کثیر رہی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد اور اخبارات کی اشاعت میں اضافہ ہوا ۔اخبار کی اصلاح پہلی بار 17ویں صدی عیسویں میں سامنے آئی۔ دنیا کا پہلا باقاعدہ اخبار Strasbours تھا جو جرمنی زبان میں چھپا تا ہم انگریزی زبان کا پہلا اخبار1620 ؁ء میں جرمنی اور اٹلی میں چھاپاگیا۔
ہالینڈ سے 1656ء میں پہلی بار شائع ہونے والا اخبار Ophgste Haaklemsche Corrant دنیا کا قدیم ترین اخبار ہے جو آج بھی شائع ہو رہا ہے۔ برصغیر میں پہلا اخبار انگریزی زبان میں 1966 میں چھاپاگیا ۔ اس دور میں اخبارات وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے مقبول ہو رہے تھے جس کے سبب 19ویں صدی کے شروع میں صرف لند ن سے 52اخبارات شائع ہو رہے تھے 1854 ؁ ء میں انگریزی اخبارات کی تقسیم تین کروڑ نوے لاکھ سے بڑھ کر بارہ کروڑ جا پہنچی تھی ۔1785 ؁ء میں شروع ہونے والا اخبار The Times دنیائے صحافت میں آزادی صحافت کا سب سے بڑا علمبدار بن کرابھرا ۔ بعد میں اپنے ایڈیٹوریل اور کثیر التعداداشاعت کی وجہ سے یہ غالباً دنیا کا پہلاقومی اخبار بنا ۔دی ٹائمز 1814 میں لندن سے چھپنے والا ایسا اخبار تھا جس نے نئی ٹیکنالوجی اور کم قیمت کی وجہ سے دوسرے تمام اخبارات کو پیچھے چھوڑ گیا تاہم 1890 ؁ء میں دی ٹائمز کے بعد دی ٹیلی گراف کا شاعت کے خاطر سے دنیا کا سب سے بڑا اخبار بن چکا تھا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں صرف ڈنمارک میں شائع ہونے والے 32 اخبارات کی اشاعت کی تعداد دس لاکھ تھی ۔ فرانس میں 1780 ؁ء میں قریباً2000 اخبارات شائع ہوتے تھے 1939 ؁ء میں پیرس کے ایک اخبار کی اشاعت کی تعداد چھ ملین تھی۔تاہم جرمن قوم کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ اخبار پڑھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ انیسویں صدی میں برلن کو اخبارات کو شہر کہا جاتا تھا ۔1912 ؁ء تک جرمنی میں چار ہزار اخبارات شائع ہوتے تھے جنکی تعداد اشاعت قریباً چھ ارب سالانہ تھی ۔ آج جرمنی میں شائع ہونے اخبارات کی تعدادبارہ سو اور جرمنی کی 78فیصد آبادی روزانہ ان کا مطالعہ کرتی ہے جبکہ صرف ایک اخبار Bild کی تعداد اشاعت 2.5ملین ہے ۔اب سب سے زیادہ اخبارات چائنہ میں شائع ہو رہے ہیں ۔2002 ؁ء کے اعدادو شمار کے مطابق چائنہ میں دوہزار ایک سو اخبارات شائع ہو رہے تھے۔
برطانیہ کے صف اول کے اخبار دی ٹائمز کے پڑھنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اسکی تعداد اشاعت دو لاکھ بیاسی ہزار کاپیاں روزانہ تھیں جبکہ نومبر2005 ؁ء میں یہ تعداد چھ لاکھ اکانوے ہزار روزانہ تھی ۔ جبکہ دی سنڈے ٹائمز کی تعداد اشاعت قریباً نولاکھ روزانہ تھی۔ امریکہ میں بھی اخبارات کی مقبولیت بتدریج بڑھی ہے ۔جہاں 1760 ؁ء میں چوبیس ہفتہ وار اخبارات چھپتے تھے تو 1900 ؁ء تک امریکہ دنیا کے آدھے سے زیادہ اخبارات چھا پ رہا تھا ۔
دنیا میں انٹرنیٹ کی آمد کے بعد اگرچہ اخبارات کی اشاعت متاثر ہوئی اور اس میں واضح کمی ہوئی تاہم اخبارات کی مقبولیت اور مطالعہ میں کوئی نمایا ں فرق نظر نہیں آتا ۔ ورلڈ پریس ٹرینڈ ز 2015 کے مطابق اشاعت اس وقت دنیا کے 120 ممالک میں چھپنے والے اخبارات کی تعداد اٹھارہ ہزار رہے جبکہ پندرہ ہزار آن لائن اخبار ات اور قریباً 80نیوز ایجنسیاں ہیں۔ ان ممالک کی کل تعداد کا 45% اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں جبکہ انٹرنیٹ صارفین کا 42% آن لائن اخبار پڑھتا ہے۔ 2015 میں اخبار مالکان نے 89.9 بلین ڈالر کی اخبارات کی اشاعت کی ۔2014 ؁ء کے آخر میں عالمی سطح پر اخبارات کا ریونیو 179 بلین ڈالر تھا جس میں سے 92 بلین ڈالر اخبارات کی فروخت جبکہ 87 بلین ڈالر اشہارات کی مد میں تھا تا ہم موبائل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سمارٹ فونز پر اخبارات کے مطالعہ کے تیز رجحان کے باوجود عالمی سطح پر پرنٹ اخبار ات کی تقسیم میں حیران کن طور پر اضافہ ہوا۔ 2010 ؁ء میں یہ تعداد 589 ملین جبکہ 2014 ؁ء میں 686 ملین تھی۔ تاہم اسی طرح ڈیجیٹل اشاعت میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ 2010 ؁ء میں یہ تعداد 788 ملین جبکہ 2014 ؁ء میں 11981 ملین تھی۔
دلچسپ اور یہ ہے کہ تمام ترقی یافتہ دنیا میں باوجود اس کے ٹیکنالوجی بشمول سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور ای ریڈرز وغیرہ کے استعمال میں انتہائی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی پرنٹ اخبارات اورکتابیں پڑھنے والوں کی تعداد بڑھی ہے ۔ آسٹریلیا میں 85.5% لوگ اخبارات پڑھتے ہیں جس میں سے 77.5% پرنٹ اخبارات ترجیح دیتے ہیں برطانیہ میں اخبارات پڑھنے والوں کی تعداد کل بالغان کا 83.2% ہے جبکہ چلی میں81.5% ہے۔

17ویں صدی میں اخبارات کے آغاز سے آج کی جدید صدی میں جہاں بہت کچھ بدل چکا ہے، ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائی ہے،جہاں ایک ارب سے زائد انسان کمپیوٹر اور موبائل کے ذریعہ آپس میں منسلک ہیں جہاں اخبارات کی انڈسٹری کو درامائی تبدیلیوں کا سامنا ہے ، جہاں ڈیجٹیلائزیشن کی وجہ سے یک نئی گلوبل مڈل کلاس وجود میں آ چکی ہے جہاں موبائل فون انسانوں کی پہلی ترجیح بن چکا ہے، جہاں ساری دنیا انسان کی ہتھیلی پر آن پڑی ہے، جہاں آن لائن اخبارات کے مطالعہ کا کلچہ تیزی سے بڑھ چکا ہے، وہاں ایک چیز آج بھی ویسی کی ویسی ہے ۔۔۔اخبارات کی وقعت ۔۔۔ خاص طور پر جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اخبارات کی افادیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اخبارات کی وقعت، مطالعہ اور اہمیت بھی اسی طرح بڑھتی جار ہی ہے۔

پاکستان میں بھی اخبارت کے مطالعہ کرنے والوں کی تعداد انتہائی حوصلہ افزا ہے ۔ یونیسکو کے اعداد شمار کے مطابق پاکستان دنیا میں اخبارات کی اشاعت میں دسویں نمبر پر ہے۔ 2007 ؁ء میں 14.6 ملین پاکستانیوں نے اخبارات کا مطالعہ کیا۔

جہاں 2014 ؁ء کے اخبارات کاریونیو 2012 کے ریونیو کی نسبت مستحکم نظر آتا ہے وہاں روزانہ کی اشاعت (534 ملین کاپیاں) بھی 2012 ؁ء کی نسبت دو فیصد زائد رہی اور پرنٹ اخبار پڑھنے والوں کی تعداد (2.5 بلین سالانہ بھی 2012 کی نسبت مستحکم تھی ۔ باوجود اسکے انٹرنیٹ پر مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں 2012 ؁ء کی نسبت 23% اضافہ ہوا اور ڈیجٹیل سرکو لیشن ریونیو میں بھی 60% اضافہ ہوا ۔ پرنٹ اخبارات کی اشاعت اور ریونیو میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی انسان کا پرنٹ کے ساتھ تعلق نہ صرف بدستور قائم ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہواہے۔

Share

1 Comment

Leave a Reply

Send Us Message

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>